Al-Maa'un
This is a tafsīr in a language other than Arabic as the Quranic Universal Library (QUL, by Tarteel) has it, taken through the open copy of QUL’s data that spa5k/tafsir_api keeps. QUL’s record does not say who wrote or translated it or which printed edition it follows, and states no licence for the text, so the right to show it is not verified. Nobody has compared it with a printed book, and no scholar has reviewed it. Each passage stands beside the verses it comments on, which are the Qur’ān text of Tanzil, shown as it is there. Sabīl did not write or translate any of it.
Text fromQuranic Universal Libraryspa5k/tafsir_apiMITtaken 2026-10-21
أَرَءَيْتَ ٱلَّذِى يُكَذِّبُ بِٱلدِّينِ 1 فَذَٰلِكَ ٱلَّذِى يَدُعُّ ٱلْيَتِيمَ 2 وَلَا يَحُضُّ عَلَىٰ طَعَامِ ٱلْمِسْكِينِ 3 فَوَيْلٌ لِّلْمُصَلِّينَ 4 ٱلَّذِينَ هُمْ عَن صَلَاتِهِمْ سَاهُونَ 5 ٱلَّذِينَ هُمْ يُرَآءُونَ 6 وَيَمْنَعُونَ ٱلْمَاعُونَ 7
بھلا دیکھا آپ نے اس شخص کو جو جھٹلاتا ہے جزا کو؟(1) پس یہ وہ شخص ہے جو دھکے دیتا ہے یتیم کو(2) اور نہیں شوق دلاتا وہ کھانا کھلانے پر مسکین کو(3) پس ہلاکت ہے (ان) نمازیوں کے لیے(4) وہ جو کہ اپنی نماز سے غفلت کرتے ہیں(5) وہ جو کہ دکھلاوا کرتے ہیں(6) اور وہ انکار کرتے ہیں استعمال کی معمولی چیزوں سے بھی(7)
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
[1] اللہ تعالیٰ اس شخص کی مذمت کرتے ہوئے جس نے اس کے اور اس کے بندوں کے حقوق کو ترک کردیا، فرماتا ہے:﴿اَرَءَيۡتَ الَّذِيۡ يُكَذِّبُ بِالـدِّيۡنِ﴾ کیا تو نے اس شخص کو دیکھا جو حیات بعدالموت کو جھٹلاتا ہے اورجو کچھ انبیاء و مرسلین لے کر آئے ہیں ان پر ایمان نہیں لاتا۔
[2]﴿فَذٰلِكَ الَّذِيۡ يَدُعُّ الۡيَتِيۡمَ﴾ پس یہی وہ شخص ہے جو سخت دلی اور تندخوئی سے یتیم کو دھکے دیتا ہے اور اپنی قساوت قلبی کی بنا پر اس پر رحم نہیں کرتا۔ نیز اس کا سبب یہ بھی ہے کہ وہ ثواب کی امید رکھتا ہے نہ عذاب سے ڈرتا ہے۔
[3]﴿وَلَا يَحُضُّ﴾ اور دوسروں کو ترغیب نہیں دیتا ﴿ عَلٰى طَعَامِ الۡمِسۡكِيۡنِ﴾ ’’مسکین کے کھانے پر۔‘‘ اور وہ خود تو بالاولیٰ مسکین کو کھانا نہیں کھلاتا۔
[4، 5]﴿فَوَيۡلٌ لِّلۡمُصَلِّيۡنَ۠﴾ ہلاکت ہے نماز کا التزام کرنے والوں کے لیے مگر وہ جو ﴿عَنۡ صَلَاتِهِمۡ سَاهُوۡنَ﴾ ’’اپنی نماز سے غافل ہیں۔‘‘ یعنی وہ اپنی نماز کو ضائع کرتے ہیں، اس کے وقت مسنون کو ترک کرتے ہیں اور اس کے ارکان کو برے طریقے سے ادا کرتے ہیں۔ اس کا سبب اللہ تعالیٰ کے حکم کا عدم اہتمام ہے کہ انھوں نے نماز کو ترک کر دیا جو سب سے اہم عبادت ہے۔ نماز سے غفلت ہی ہے جو نمازی کو مذمت اور ملامت کا مستحق بناتی ہے۔ اور رہا نماز کے اندر سہو، تو یہ ہر ایک سے واقع ہو جاتا ہے حتیٰ کہ نبی اکرمﷺ سے بھی سہو واقع ہوا ہے۔
[6، 7] بنابریں اللہ تعالیٰ نے نماز سے غافل لوگوں کو ریا، قساوت اور بے رحمی جیسے اوصاف سے موصوف کیا ہے۔ فرمایا:﴿الَّذِيۡنَ هُمۡ يُرَآءُوۡنَ﴾ یعنی وہ لوگوں کے دکھلاوے کے لیے عمل کرتے ہیں۔ ﴿وَيَمۡنَعُوۡنَ الۡمَاعُوۡنَ﴾ کسی چیز کو عاریتاً یا ہبہ کے طور پر عطا کرنے سے جس کے عطا کرنے پر ان کو نقصان نہیں پہنچتا، روکتے ہیں، مثلاً: برتن، ڈول، کلہاڑی وغیرہ جن کو استعمال کے لیے دینے اور ان کے بارے میں فیاضی کرنے کی عام عادت جاری ہے۔ یہ لوگوں کو اپنی شدید حرص کے باعث استعمال کی معمولی اشیاء کو دینے سے منع کرتے ہیں تب ان سے زیادہ بڑی اشیاء (لوگوں کو استعمال کے لیے) دیتے وقت ان کا کیا حال ہو گا۔اس سورۂ مبارکہ میں یتیموں اور مساکین کو کھانا کھلانے، نیز نماز کا خیال رکھنے، اس کی حفاطت کرنے اور نماز اور دیگر تمام اعمال میں اخلاص کو مدنظر رکھنے کی ترغیب دی گئی ہے۔ نیز معروف پر عمل کرنے، معمولی اموال کو استعمال کے لیے عطا کرنے کی ترغیب ہے، مثلاً: برتن، ڈول اور کتاب وغیرہ، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس شخص کی مذمت کی ہے جو ایسا نہیں کرتا۔ وَاللہُ سُبْحَانَہُ أَعْلَمُ بِالصَّوَابِ ، وَالْحَمْدُ لِلہِ رَبِّ الْعَالَمِینَ .