Skip to content
Tafsir As-Saadi - Urdu · Al-Fil
Sūrah 105

Al-Fil

This is a tafsīr in a language other than Arabic as the Quranic Universal Library (QUL, by Tarteel) has it, taken through the open copy of QUL’s data that spa5k/tafsir_api keeps. QUL’s record does not say who wrote or translated it or which printed edition it follows, and states no licence for the text, so the right to show it is not verified. Nobody has compared it with a printed book, and no scholar has reviewed it. Each passage stands beside the verses it comments on, which are the Qur’ān text of Tanzil, shown as it is there. Sabīl did not write or translate any of it.

Text fromQuranic Universal Libraryspa5k/tafsir_apiMITtaken 2026-10-21

Verses 1–5

أَلَمْ تَرَ كَيْفَ فَعَلَ رَبُّكَ بِأَصْحَـٰبِ ٱلْفِيلِ 1 أَلَمْ يَجْعَلْ كَيْدَهُمْ فِى تَضْلِيلٍ 2 وَأَرْسَلَ عَلَيْهِمْ طَيْرًا أَبَابِيلَ 3 تَرْمِيهِم بِحِجَارَةٍ مِّن سِجِّيلٍ 4 فَجَعَلَهُمْ كَعَصْفٍ مَّأْكُولٍۭ 5

کیا نہیں دیکھا آپ نے کیسے کیا آپ کے رب نے ہاتھی والوں کے ساتھ؟(1)کیا نہیں کر دیا تھا اس نے ان کی چال کو بے کار؟(2) اور اس نے بھیجے ان پر پرندے جھنڈ کے جھنڈ(3) وہ پھینکتے تھے ان پر کنکریاں کھنگر کی(4) سو (اللہ) نے کر دیا انھیں (ایسے) جیسے بھوسا کھایا ہوا(5)

(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔

[5-1] کیا آپ نے اللہ تعالیٰ کی قدرت، اس کی عظمت شان، اپنے بندوں پر اس کی رحمت، اس کی توحید کے دلائل اور اس کے رسول محمدﷺ کی صداقت کو نہیں دیکھا کہ اللہ تعالیٰ نے ہاتھی والوں کے ساتھ کیا کیا؟ جنھوں نے اس کے حرمت والے گھر کے خلاف سازش کی اور اس کو ڈھانے کا ارادہ کیا۔ پس اس کے لیے انھوں نے خوب تیاری کی اور بیت اللہ کو منہدم کرنے کے لیے انھوں نے اپنے ساتھ ہاتھی بھی لے لیے تھے۔ وہ حبشہ اور یمن سے ایک ایسی فوج لے کر آئے جس کا مقابلہ کرنا عربوں کے بس میں نہ تھا۔ جب وہ مکہ کے قریب پہنچے تو عربوں میں مزاحمت کرنے والا کوئی نہ تھا، اہل مکہ ان کے خوف سے مکہ سے نکل گئے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان پر پرندوں کے غول بھیجے، یعنی متفرق غول جو کھنگر کی گرم کنکریاں اٹھائے ہوئے تھے۔ پس پرندوں نے یہ کنکریاں ان پر پھینکیں اور انھوں نے دور اور نزدیک سب کو نشانہ بنایا اور وہ سب موت کے گھاٹ اتر گئے اور وہ یوں ہو گئے جیسے کھایا ہوا بھس۔اللہ تعالیٰ ان کے شر کے لیے کافی ہو گیا اور اس نے ان کی چال کو انھی پر لوٹا دیا۔ ان کا یہ واقعہ بہت مشہور اور معروف ہے۔ یہ واقعہ اس سال پیش آیا جس سال رسول اللہﷺ متولد ہوئے۔ پس یہ واقعہ آپ کی دعوت کی بنیاد اور آپ کی رسالت کی دلیل بن گیا۔ پس اللہ تعالیٰ ہی کی حمد و ثنا اور اسی کا شکر ہے۔