Skip to content
Tafsir As-Saadi - Urdu · Yunus
Sūrah 10

Yunus

This is a tafsīr in a language other than Arabic as the Quranic Universal Library (QUL, by Tarteel) has it, taken through the open copy of QUL’s data that spa5k/tafsir_api keeps. QUL’s record does not say who wrote or translated it or which printed edition it follows, and states no licence for the text, so the right to show it is not verified. Nobody has compared it with a printed book, and no scholar has reviewed it. Each passage stands beside the verses it comments on, which are the Qur’ān text of Tanzil, shown as it is there. Sabīl did not write or translate any of it.

Text fromQuranic Universal Libraryspa5k/tafsir_apiMITtaken 2026-10-21

Verses 62–64

أَلَآ إِنَّ أَوْلِيَآءَ ٱللَّهِ لَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ 62 ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ وَكَانُوا۟ يَتَّقُونَ 63 لَهُمُ ٱلْبُشْرَىٰ فِى ٱلْحَيَوٰةِ ٱلدُّنْيَا وَفِى ٱلْـَٔاخِرَةِ ۚ لَا تَبْدِيلَ لِكَلِمَـٰتِ ٱللَّهِ ۚ ذَٰلِكَ هُوَ ٱلْفَوْزُ ٱلْعَظِيمُ 64

آگاہ رہو! بے شک اولیاء اللہ، نہ کوئی خوف ہو گا ان پر اور نہ وہ غمگین ہوں گے(62) وہ لوگ جو ایمان لائے اور تھے وہ ڈرتے (اللہ سے)(63) واسطے ان کے خوش خبری ہے دنیا میں زندگی میں اور آخرت میں (بھی)، نہیں تبدیلی ہوتی اللہ کی باتوں میں ، یہی ہے کامیابی بہت بڑی (64)

[62] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے اولیاء اور محبوب لوگوں کے بارے میں خبر دیتے ہوئے ان کے اعمال و اوصاف اور ان کے ثواب کا ذکر کرتا ہے، چنانچہ فرماتا ہے:﴿ اَلَاۤ اِنَّ اَوۡلِيَآءَ اللّٰهِ لَا خَوۡفٌ عَلَيۡهِمۡ﴾’’خبردار، اللہ کے جو دوست ہیں ، ان پر کوئی خوف نہ ہو گا‘‘ یعنی قیامت کے روز میدان محشر میں جو خوفناک اور ہولناک حالات ہوں گے، وہاں انھیں کوئی خوف نہ ہوگا۔ ﴿ وَلَا هُمۡ يَحۡزَنُوۡنَ﴾ ’’اور نہ وہ غمگین ہوں گے‘‘ ان اعمال پر جو انھوں نے پہلے کیے ہوں گے کیونکہ انھوں نے اعمال صالحہ کے سوا کچھ نہیں کیا ہو گا۔ چونکہ انھیں کسی قسم کا خوف ہوگا نہ وہ غمزدہ ہوں گے، اس لیے وہاں ان کے لیے امن و سعادت اور خیر کثیر ہو گا جسے اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔

[63] پھر اللہ تبارک تعالیٰ نے اولیاء اللہ کا وصف بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا﴾ ’’وہ جو ایمان لائے۔‘‘ یعنی جو اللہ تعالیٰ پر، اس کے فرشتوں ، اس کی بھیجی ہوئی کتابوں ، اس کے مبعوث کیے ہوئے رسولوں ، یوم آخرت اور اچھی بری تقدیر پر ایمان لائے اور تقویٰ کے استعمال، اللہ تعالیٰ کے اوامر کی فرماں برداری اور اس کے نواہی سے اجتناب کر کے اپنے ایمان کی تصدیق کی۔پس ہر وہ شخص جو مومن اور متقی ہے وہ اللہ تعالیٰ کا ولی ہے۔

[64] اسی لیے فرمایا: ﴿ لَهُمُ الۡبُشۡرٰؔى فِي الۡحَؔيٰؔوةِ الدُّنۡيَا وَفِي الۡاٰخِرَةِ﴾ ’’ان کے لیے خوش خبری ہے دنیا کی زندگی میں اور آخرت میں ‘‘ دنیا کے اندر بشارت سے مراد، ثنائے حسن، مومنوں کے دلوں میں محبت و مودت، سچے خواب، بندۂ مومن کا اللہ تعالیٰ کے لطف و کرم سے بہرہ ور ہونا، اللہ تعالیٰ کا بہترین اعمال و اخلاق کے راستوں کو آسان کر دینا اور بندے کو برے اخلاق سے دور کر دینا ہے اور آخرت کی بشارتوں میں اولین بشارت یہ ہے کہ روح قبض کیے جانے کے موقع پر ان کو بشارت دی جاتی ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:﴿ اِنَّ الَّذِيۡنَ قَالُوۡا رَبُّنَا اللّٰهُ ثُمَّ اسۡتَقَامُوۡا تَتَنَزَّلُ عَلَيۡهِمُ الۡمَلٰٓىِٕكَةُ اَلَّا تَخَافُوۡا وَ لَا تَحۡزَنُوۡا وَاَبۡشِرُوۡا بِالۡجَنَّةِ الَّتِيۡ كُنۡتُمۡ تُوۡعَدُوۡنَ﴾(حم السجدۃ: 41؍30)’’بے شک وہ لوگ جنھوں نے کہا اللہ ہمارا رب ہے پھر وہ اس پر قائم رہے، ان پر فرشتے اترتے ہیں اور کہتے ہیں کہ خوف نہ کرو اور نہ غم زدہ ہو اور جنت کی خبر سے خوش ہو جاؤ جس کا تم سے وعدہ کیا گیا ہے۔‘‘ اور قبر میں اللہ تعالیٰ کی رضا اور ہمیشہ رہنے والی نعمتوں کی خوشخبری دی جائے گی اور قیامت کے روز نعمتوں بھری جنت میں دخول اور دردناک عذاب سے نجات کے ساتھ اس خوشخبری کا اتمام ہوگا۔﴿ لَا تَبۡدِيۡلَ لِكَلِمٰتِ اللّٰهِ﴾ ’’اللہ کے کلمات بدلتے نہیں ‘‘ بلکہ اللہ تعالیٰ نے جو وعدہ کیا ہے وہ حق ہے جس میں تغیر و تبدل ممکن نہیں کیونکہ وہ اپنے قول میں سچا ہے اور اس کی مقرر کی ہوئی قضا و قدر میں کوئی شخص اس کی مخالفت نہیں کر سکتا۔ ﴿ ذٰلِكَ هُوَ الۡفَوۡزُ الۡعَظِيۡمُ ﴾ ’’یہی ہے بڑی کامیابی‘‘ کیونکہ یہ تمام محذورات سے نجات اور ہر محبوب چیز کے حصول میں ظفریابی پر مشتمل ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ’’فوز‘‘ کو حصر کے ساتھ بیان کیا ہے کیونکہ فوز و فلاح اہل ایمان اور اہل تقویٰ کے سوا کسی کے لیے نہیں ۔ اس کا ماحصل یہ ہے کہ بشارت ہر خیر و ثواب کو شامل ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے دنیا و آخرت میں ایمان اور تقویٰ پر مرتب فرمایا ہے۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے اس کو تقیید کے ساتھ نہیں بلکہ مطلق بیان کیا ہے۔