Skip to content
Tafsir Ibn Kathir · Al-Ghaashiya
Sūrah 88

Al-Ghaashiya

This is a tafsīr in a language other than Arabic as the Quranic Universal Library (QUL, by Tarteel) has it, taken through the open copy of QUL’s data that spa5k/tafsir_api keeps. QUL’s record does not say who wrote or translated it or which printed edition it follows, and states no licence for the text, so the right to show it is not verified. Nobody has compared it with a printed book, and no scholar has reviewed it. Each passage stands beside the verses it comments on, which are the Qur’ān text of Tanzil, shown as it is there. Sabīl did not write or translate any of it.

Text fromQuranic Universal Libraryspa5k/tafsir_apiMITtaken 2026-10-21

Verses 1–7

هَلْ أَتَىٰكَ حَدِيثُ ٱلْغَـٰشِيَةِ 1 وُجُوهٌ يَوْمَئِذٍ خَـٰشِعَةٌ 2 عَامِلَةٌ نَّاصِبَةٌ 3 تَصْلَىٰ نَارًا حَامِيَةً 4 تُسْقَىٰ مِنْ عَيْنٍ ءَانِيَةٍ 5 لَّيْسَ لَهُمْ طَعَامٌ إِلَّا مِن ضَرِيعٍ 6 لَّا يُسْمِنُ وَلَا يُغْنِى مِن جُوعٍ 7

تفسیر سورۃ الغاشیۃ:

یہ حدیث گزر چکی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم «سبح اسم» اور «غاشیہ» کو نماز عیدین اور جمعہ میں پڑھتے تھے، موطا امام مالک میں ہے کہ جمعہ کے دن پہلی رکعت میں سورۃ جمعہ اور دوسری میں «هل اتاك حديث الغاشية» پڑھتے تھے [ابوداؤد] ‏ صحیح مسلم، ابن ماجہ اور نسائی میں بھی یہ حدیث ہے۔ [صحیح مسلم:878] ‏

سب کو ڈھانپنے والی حقیقت ٭٭

«غَاشِيَةُ» قیامت کا نام ہے اس لئے کہ وہ سب پر آئیگی سب کو گھیرے ہوئے ہو گی اور ہر ایک کو ڈھانپ لے گی۔

ابن ابی حاتم میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کہیں جا رہے تھے کہ ایک عورت کی قرآن پڑھنے کی آواز آئی آپ کھڑے ہو کر سننے لگے اس نے یہی آیت «هَلْ أَتَاكَ» پڑھی یعنی ” کیا تیرے پاس ڈھانپ لینے والی قیامت کی بات پہنچی ہے؟ “ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواباً فرمایا: ” «نَعَمْ، قَدْ جَاءَنِي» یعنی ہاں میرے پاس پہنچ چکی ہے۔“

اس دن بہت سے لوگ ذلیل چہروں والے ہوں گے پستی ان پر برس رہی ہو گی ان کے اعمال غارت ہو گئے ہوں گے انہوں نے تو بڑے بڑے عمل کئے تھے، سخت تکلیفیں اٹھائی تھیں وہ آج بھڑکتی ہوئی آگ میں داخل ہو گئے۔ ایک مرتبہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ ایک خانقاہ کے پاس سے گزرے وہاں کے راہب کو آواز دی وہ حاضر ہوا آپ اسے دیکھ کر روئے لوگوں نے پوچھا: حضرت کیا بات ہے؟ تو فرمایا: ”اسے دیکھ کر یہ آیت یاد آ گئی کہ عبادت اور ریاضت کرتے ہیں لیکن آخر جہنم میں جائیں گے۔‏“

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ”اس سے مراد نصرانی ہیں۔‏“ عکرمہ اور سدی رحمہ اللہ علیہم فرماتے ہیں کہ ”دنیا میں گناہوں کے کام کرتے رہے اور آخرت میں عذاب کی اور مار کی تکلیفیں برداشت کریں گے یہ سخت بھڑکنے والی جلتی تپتی آگ میں جائیں گے جہاں سوائے «ضَرِيعٍ» کے اور کچھ کھانے کو نہ ملے گا جو آگ کا درخت ہے یا جہنم کا پتھر ہے یہ تھوہر کی بیل ہے اس میں زہریلے کانٹے دار پھل لگتے ہیں یہ بدترین کھانا ہے اور نہایت ہی برا نہ بدن بڑھائے نہ بھوک مٹائے یعنی نہ نفع پہنچے نہ نقصان دور ہو۔‏“

10538