Skip to content
Tafsir Ibn Kathir · Al-Insaan
Sūrah 76

Al-Insaan

This is a tafsīr in a language other than Arabic as the Quranic Universal Library (QUL, by Tarteel) has it, taken through the open copy of QUL’s data that spa5k/tafsir_api keeps. QUL’s record does not say who wrote or translated it or which printed edition it follows, and states no licence for the text, so the right to show it is not verified. Nobody has compared it with a printed book, and no scholar has reviewed it. Each passage stands beside the verses it comments on, which are the Qur’ān text of Tanzil, shown as it is there. Sabīl did not write or translate any of it.

Text fromQuranic Universal Libraryspa5k/tafsir_apiMITtaken 2026-10-21

Verses 13–16

مُّتَّكِـِٔينَ فِيهَا عَلَى ٱلْأَرَآئِكِ ۖ لَا يَرَوْنَ فِيهَا شَمْسًا وَلَا زَمْهَرِيرًا 13 وَدَانِيَةً عَلَيْهِمْ ظِلَـٰلُهَا وَذُلِّلَتْ قُطُوفُهَا تَذْلِيلًا 14 وَيُطَافُ عَلَيْهِم بِـَٔانِيَةٍ مِّن فِضَّةٍ وَأَكْوَابٍ كَانَتْ قَوَارِيرَا۠ 15 قَوَارِيرَا۟ مِن فِضَّةٍ قَدَّرُوهَا تَقْدِيرًا 16

دائمی خوشگوار موسم اور مسرتوں سے بھرپور زندگی ٭٭

اہل جنت کی نعمت، راحت، ان کے ملک و مال اور جاہ و منال کا ذکر ہو رہا ہے کہ ” یہ لوگ بہ آرام تمام پورے اطمینان اور خوش دلی کے ساتھ جنت کے مرصع، مزین، جڑاؤ تختوں پر بےفکری سے تکیے لگائے سرور اور راحت سے بیٹھے مزے لوٹ رہے ہوں گے “۔

سورۃ الصافات کی تفسیر میں اس کی پوری شرح گزر چکی ہے، وہیں یہ بھی بیان ہو چکا ہے کہ «اِتکَّاً» سے مراد لیٹنا ہے یا کہنیاں ٹکانا ہے یا چار زانو بیٹھنا ہے یا کمر لگا کر ٹیک لگانا ہے، اور یہ بھی بیان ہو چکا ہے کہ «اَرَائِک» چھپرکھٹوں کو کہتے ہیں۔

پھر ایک اور نعمت بیان ہو رہی ہے کہ ” وہاں نہ تو سورج کی تیز شعاعوں سے انہیں کوئی تکلیف پہنچے نہ جاڑے کی بہت سرد ہوائیں انہیں ناگوار گزریں بلکہ بہار کا موسم ہر وقت اور ہمیشہ رہتا ہے گرمی سردی کے جھمیلوں سے الگ ہیں، جنتی درختوں کی شاخیں جھوم جھوم کر ان پر سایہ کئے ہوئے ہوں گی اور میوے ان سے بالکل قریب ہوں گے چاہے لیٹے لیٹے توڑ کر کھا لیں، چاہے بیٹھے بیٹھے لے لیں چاہے کھڑے ہو کر لے لیں درختوں پر چڑھنے اور تکلیف کی کوئی حاجت نہیں سروں پر میوے دار گچھے اور لدے ہوئے لچھے لٹک رہے ہیں توڑا اور کھا لیا اگر کھڑے ہیں تو میوے اتنے اونچے ہیں بیٹھے تو قدرے جھک گئے لیٹے تو اور قریب آ گئے، نہ تو کانٹوں کی رکاوٹ نہ دوری کی سردردی ہے “۔

10099

مجاہد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں جنت کی زمین چاندی کی ہے اور اس کی مٹی مشک خالص ہے، اس کے درختوں کے تنے سونے چاندی کے ہیں، ڈالیاں لولو زبرجد اور یاقوت کی ہیں، ان کے درمیان پتے اور پھل ہیں جن کے توڑنے میں کوئی دقت اور مشکل نہیں چاہو بیٹھے بیٹھے توڑ لو، چاہو کھڑے کھڑے، بلکہ اگر چاہیں لیٹے لیٹے ـ

ایک طرف خوش خرام، خوش دل، خوبصورت، با ادب، سلیقہ شعار، فرمانبردار خادم قسم قسم کے کھانے چاندی کی کشتیوں میں لگائے لیے کھڑے ہیں۔ دوسری جانب شراب طہور سے چھلکتے ہوئے بلوریں جام لیے ساقیان مہوش اشارے کے منتظر ہیں، یہ گلاس صفائی میں شیشے جیسے اور سفیدی میں چاندی جیسے ہوں گے، دراصل ہوں گے چاندی کے لیکن شیشے کی طرح شفاف ہوں گے کہ اندر کی چیز باہر سے نظر آئے، جنت کی تمام چیزوں کی یونہی سی برائے نام مشابہت دنیا کی چیزوں میں بھی پائی جاتی ہے لیکن ان چاندی کے بلوریں گلاسوں کی کوئی نظیر نہیں ملتی، ہاں یہ یاد رہے کہ پہلے کے لفظ «قواریر» پر زبر تو اس لیے ہے کہ وہ «کان» کی خبر ہے اور دوسرے پر زبر یا تو بدلیت کی بنا پر ہے یا تمیز کی بنا پر، پھر یہ جام نپے تلے ہوئے ہیں ساقی کے ہاتھ میں بھی زیب دیں اور ان کی ہتھیلیوں پر بھلے معلوم ہوں اور پینے والوں کے حسب خواہش شراب طہور اس میں سما جائے جو نہ بچے نہ گھٹے۔

ان نایاب گلاسوں میں جو پاک خوش ذائقہ اور سرور والی بے نشے کی شراب انہیں ملے گی وہ جنت کی نہر «سلسبیل» کے پانی سے مخلوط کر کے دی جائے گی، اوپر گزر چکا ہے کہ نہر کافور کے پانی سے مخلوط کر کے دی جائے گی تو مطلب یہ ہے کبھی اسی ٹھنڈک والے سرد مزاج پانی سے، کبھی اس نفیس گرم مزاج پانی سے تاکہ اعتدال قائم رہے، یہ ابرار لوگوں کا ذکر ہے اور خاص مقربین خالص اس نہر کا شربت پئیں گے۔

10100