Skip to content
Tafsir Ibn Kathir · Ash-Shu'araa
Sūrah 26

Ash-Shu'araa

This is a tafsīr in a language other than Arabic as the Quranic Universal Library (QUL, by Tarteel) has it, taken through the open copy of QUL’s data that spa5k/tafsir_api keeps. QUL’s record does not say who wrote or translated it or which printed edition it follows, and states no licence for the text, so the right to show it is not verified. Nobody has compared it with a printed book, and no scholar has reviewed it. Each passage stands beside the verses it comments on, which are the Qur’ān text of Tanzil, shown as it is there. Sabīl did not write or translate any of it.

Text fromQuranic Universal Libraryspa5k/tafsir_apiMITtaken 2026-10-21

Verses 146–152

أَتُتْرَكُونَ فِى مَا هَـٰهُنَآ ءَامِنِينَ 146 فِى جَنَّـٰتٍ وَعُيُونٍ 147 وَزُرُوعٍ وَنَخْلٍ طَلْعُهَا هَضِيمٌ 148 وَتَنْحِتُونَ مِنَ ٱلْجِبَالِ بُيُوتًا فَـٰرِهِينَ 149 فَٱتَّقُوا۟ ٱللَّهَ وَأَطِيعُونِ 150 وَلَا تُطِيعُوٓا۟ أَمْرَ ٱلْمُسْرِفِينَ 151 ٱلَّذِينَ يُفْسِدُونَ فِى ٱلْأَرْضِ وَلَا يُصْلِحُونَ 152

صالح علیہ السلام کی باغی قوم ٭٭

حضرت صالح علیہ السلام اپنی قوم میں وعظ فرما رہے ہیں انہیں اللہ کی نعمتیں یاد دلا رہے ہیں اور اس کے عذابوں سے متنبہ فرما رہے ہیں کہ ”وہ اللہ جو تمہیں یہ کشادہ روزیاں دے رہا ہے جس نے تمہارے لیے باغات اور چشمے کھیتیاں اور پھل پھول مہیا فرمادئیے ہیں امن چین سے تمہاری زندگی کے ایام پورے کر رہے ہیں تم اس کی نافرمانیاں کرکے انہی نعمتوں میں اور اسی امن وامان میں نہیں چھوڑے جا سکتے۔ ان باغات اور ان دریاؤں میں ان کھیتوں میں ان کھجوروں کے باغات میں جن کے خوشے کھجوروں کی زیادتی کے مارے بوجھل ہو رہے ہیں اور جھکے پڑتے ہیں جن میں تہہ بہ تہہ تر کجھوریں بھرپور لگ رہی ہیں جو نرم خوش نما میٹھی اور خوش ذائقہ کجھوروں سے لدی ہوئے ہیں تم اللہ کی نافرمانیاں کر کے ان کو بہ آرام ہضم نہیں کر سکتے۔ اللہ نے تمہیں اس وقت جن مضبوط اور پرتکلف بلند اور عمدہ گھروں میں رکھ چھوڑا ہے اللہ کی توحید اور میری رسالت سے انکار کے بعد یہ بھی قائم نہیں رہ سکتے۔ افسوس تم اللہ کی نعمتوں کی قدر نہیں کرتے اپنا وقت اپنا روپیہ بیجا برباد کر کے یہ نقش و نگار والے مکانات پہاڑوں میں بہ تصنع وتکلف صرف بڑائی اور ریاکاری کیلئے اپنی عظمت اور قوت کے مظاہرے کیلے تراش رہے ہو جس میں کوئی نفع نہیں بلکہ اس کا وبال تمہارے سروں پر منڈلا رہا ہے پس تمہیں اللہ سے ڈرنا چاہیئے اور میری اتباع کرنی چاہیئے اپنے خالق رازق منعم محسن کی عبادت اور اس کی فرمانبرداری اور اس کی توحید کی طرف پوری طرح متوجہ ہو جانا چاہیئے۔ جس کا نفع تمہیں اپنے دنیا اور آخرت میں ملے تمہیں اس کا شکر ادا کرنا چاہیئے اس کی تسبیح وتہلیل کرنی چاہئیے صبح و شام اس کی عبادت کرنی چاہیئے تمہیں اپنے ان موجودہ سردارں کی ہرگز نہ ماننی چاہیئے یہ تو حدود اللہ سے تجاوز کر گئے، توحید کو، اتباع کو بھلا بیٹھے ہیں۔ زمین میں فسادپھیلا رہے ہیں نافرمانی، گناہ، فسق وفجور پر خود لگے ہوئے ہیں اور دوسروں کو بھی اسی کی طرف بلا رہے ہیں اور حق کی موافقت اور اتباع کر کے اصلاح کی کوشش نہیں کرتے۔‏“

صفحہ نمبر6280