ذکرُ اللہ اور دُعاؤں کا بیان
This translation is its translator’s, not Sabīl’s. It is shown as its source gives it, as a text of its own under each book with the translator’s own headings: it does not stand line for line beside the Arabic, and it keeps the faults of the copy it was read from. Sabīl has not checked it against the Arabic, and no scholar has reviewed it.
Translated by Al-Madina-tul-Ilmiyah (Dawateislami's translation department)احیاء العلوم (اردو ترجمہ)، پانچ جلدیںRead from dawateislami.net (Maktabat-ul-Madina)taken 2026-10-22
What the source says of it: The site names the writer as Al Madina-tul-Ilmiyah and the publisher as Maktaba-tul-Madina, with the five volumes published between April 2012 and 2015 and updated in March 2023; it states no licence. The translation sets the Arabic of the verses and narrations in the text, with its own headings and foot-notes giving the sources.
تمام خوبیاں اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے لئے جس کی مہربانی سب کو شامل ، جس کی رحمت عام اور جس کا ذکر کرنے والے بندے کا اس کی بارگاہ میں چرچا ہوتا ہے ۔ جیسا کہ فرمانِ عالیشان ہے فَاذْكُرُوْنِیْۤ اَذْكُرْكُمْ ( پ ۲ ، البقرۃ :۱۵۲) ترجمۂ کنزالایمان : تو میری یاد کرو میں تمہارا چرچا کروں گا ۔ ‘‘ اور اس نے بندوں کو اپنی بارگاہ میں سوالی بننے اور دست ِ دعا دراز کرنے کی ترغیب دیتے ہوئے ارشاد فرمایا :’’ ادْعُوْنِیْۤ اَسْتَجِبْ لَكُمْؕ- ( پ ۲۴ ، المؤمن :۶۰) ترجمۂ کنزالایمان : مجھ سے دعا کرو میں قبول کروں گا ۔ ‘‘ اور اس نے نیک وبد اور بارگاہِ عالی سے قریب ہونے والے اور دوری اختیار کرنے والے ہر شخص کو اپنی طرف متوجہ ہونے اور جھولیاں پھیلانے کی دعوت دی کہ وہ ان کی حاجتوں اور خواہشوں کو پورا فرمائے گا ۔ چنانچہ ارشاد فرمایا: ’’ وَ اِذَا سَاَلَكَ عِبَادِیْ عَنِّیْ فَاِنِّیْ قَرِیْبٌؕ-اُجِیْبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ اِذَا دَعَانِۙ- ( پ ۲ ، البقرۃ :۱۸۶) ترجمۂ کنزالایمان : اور اے محبوب جب تم سے میرے بندے مجھے پوچھیں تو میں نزدیک ہوں دعا قبول کرتا ہوں ، پکارنے والے کی جب مجھے پکارے ۔ ‘‘ کثیر دُرود وسلام ہوں سردارِ انبیا محبوب کبریا حضرتِ سیِّدُنا محمد ِمصطفٰے صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر اور آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے آل واصحاب پر جو منتخب اور بہترین بندگانِ خدا میں سے ہیں ۔
تلاوتِ قرآن کے بعد ذکراللّٰہ اور حاجت برآری کے لئے بارگاہِ خدا میں اخلاص کے ساتھ مانگی جانے والی دعا سے بڑھ کر کوئی زبانی عبادت نہیں ۔ لہٰذا ضروری ہے کہ تفصیل کے ساتھ ذکر کے فضائل اور مختلف اذکار بیان کئے جائیں اور ساتھ ہی دعا کے فضائل وآداب اور اس کی شرائط اور دینی ودنیوی مقاصد کی تکمیل کے لئے آیات وروایات میں منقول طلب ِمغفرت وطلب ِپناہ کے لئے مخصوص جامع دعاؤں کا بھی ذکر ہو ۔ اس کی تفصیل پانچ ابواب پر مشتمل ہے ۔
باب نمبر1: قرآن وحدیث اور اقوال اسلاف سے ذکراللّٰہ کے فضائل وفوائد کا بیان ۔
باب نمبر2: استغفار ، درود اور دعا کے فضائل وآداب ۔
باب نمبر3: انبیائے کرام وبزرگان دین سے منقول 16 دعائیں ۔
باب نمبر4: قرآن وحدیث میں وارد نماز کے بعد کی دعائیں ۔
باب نمبر5: مختلف مواقع کی مسنون دعائیں ۔
٭…٭…٭…٭…٭…٭
باب نمبر1: قرآن وحدیث اور اقوالِ اسلاف سے
ذکراللہ کے فضائل وفوائد کابیان
(اس میں پانچ فصلیں ہیں )
پہلی فصل: ذ کراللہ کی فضیلت
ذکر کی فضیلت پر مشتمل 9 فرامین باری تعالیٰ:
فَاذْكُرُوْنِیْۤ اَذْكُرْكُمْ ( پ ۲ ، البقرۃ :۱۵۲) ترجمۂ کنزالایمان : تومیری یاد کرو میں تمہارا چرچا کروں گا ۔
حضرت سیِّدُنا ثابت بنانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی فرماتے ہیں : ’’مجھے اس ساعت کا علم ہے جس میں میرا ربّ عَزَّوَجَلَّ میرا ذکر فرماتا ہے ۔ ‘‘ حاضرین جھنجلاکر کہنے لگے: ’’یہ آپ کو کیسے پتا چلتاہے؟‘‘ فرمایا: ’’جب میں اس کا ذکر کرتا ہوں تو وہ میرا چرچا کرتا ہے ۔ ‘‘
{۲}
اُذْكُرُوا اللّٰهَ ذِكْرًا كَثِیْرًاۙ(۴۱) ( پ ۲۲ ، الاحزاب :۴۱) ترجمۂ کنزالایمان : اللّٰہ کو بہت یاد کرو ۔
{۳}
فَاِذَاۤ اَفَضْتُمْ مِّنْ عَرَفٰتٍ فَاذْكُرُوا اللّٰهَ عِنْدَ الْمَشْعَرِ الْحَرَامِ۪-وَ اذْكُرُوْهُ كَمَا هَدٰىكُمْۚ-
( پ ۲ ، البقرۃ :۱۹۸)
ترجمۂ کنزالایمان : تو جب عرفات سے پلٹو تو اللّٰہ کی یاد کرو مشعرِ حرام کے پاس اور اس کا ذکر کرو جیسے اس نے تمہیں ہدایت فرمائی ۔
{۴}
فَاِذَا قَضَیْتُمْ مَّنَاسِكَكُمْ فَاذْكُرُوا اللّٰهَ كَذِكْرِكُمْ اٰبَآءَكُمْ اَوْ اَشَدَّ ذِكْرًاؕ- ( پ ۲ ، البقرۃ :۲۰۰)
ترجمۂ کنزالایمان : پھر جب اپنے حج کے کام پورے کرچکو تو اللّٰہ کا ذکر کرو جیسے اپنے باپ دادا کا ذکر کرتے تھے بلکہ اس سے زیادہ ۔
{۵}
الَّذِیْنَ یَذْكُرُوْنَ اللّٰهَ قِیٰمًا وَّ قُعُوْدًا وَّ عَلٰى جُنُوْبِهِمْ ( پ ۴ ، اٰل عمرٰن :۱۹۱)
ترجمۂ کنزالایمان : جو اللّٰہ کی یاد کرتے ہیں کھڑے اور بیٹھے اور کروٹ پر لیٹے ۔
{۶}
فَاِذَا قَضَیْتُمُ الصَّلٰوةَ فَاذْكُرُوا اللّٰهَ قِیٰمًا وَّ قُعُوْدًا وَّ عَلٰى جُنُوْبِكُمْۚ- ( پ ۵ ، النسآء :۱۰۳)
ترجمۂ کنزالایمان : پھر جب تم نماز پڑھ چکو تو اللّٰہ کی یاد کرو کھڑے اور بیٹھے اور کروٹوں پر لیٹے ۔
حضرت سیِّدُنا عبداللّٰہ بن عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا مذکورہ آیت ِ مبارکہ کی تفسیر میں فرماتے ہیں : اس کامعنی یہ ہے کہ ’’ دن رات ، خشکی وتری ، سفر وحضر ، غربت ومالداری ، مرض وصحت اور پوشیدہ وعلانیہ ہر حالت میں اس کا ذکر کرو ۔ ‘‘
{۷}
وَ لَا یَذْكُرُوْنَ اللّٰهَ اِلَّا قَلِیْلًا٘ۙ(۱۴۲) ( پ ۵ ، النسآء :۱۴۲) ترجمۂ کنزالایمان : اور اللّٰہ کو یاد نہیں کرتے مگر تھوڑا ۔
{۸}
وَ اذْكُرْ رَّبَّكَ فِیْ نَفْسِكَ تَضَرُّعًا وَّ خِیْفَةً وَّ دُوْنَ الْجَهْرِ مِنَ الْقَوْلِ بِالْغُدُوِّ وَ الْاٰصَالِ وَ لَا تَكُنْ مِّنَ الْغٰفِلِیْنَ(۲۰۵) ( پ ۹ ، الاعراف :۲۰۵)
ترجمۂ کنزالایمان : اور اپنے رب کو اپنے دل میں یاد کرو زاری (عاجزی) اور ڈر سے اور بے آواز نکلے زبان سے صبح اورشام اور غافلوں میں نہ ہونا ۔
{۹}
وَ لَذِكْرُ اللّٰهِ اَكْبَرُؕ- ( پ ۲۱ ، العنکبوت :۴۵) ترجمۂ کنزالایمان : اور بے شک اللّٰہ کا ذکر سب سے بڑا ۔
حضرت سیِّدُنا عبداللّٰہ بن عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا فرماتے ہیں مذکورہ آیت ِ مبارَکہ کی دو تفسیریں ہیں : ’’(۱)…تم اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کو یاد کرتے ہو اس سے عظیم تر بات یہ ہے کہ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ تمہارا ذکر فرماتا ہے ۔ (۲)…تمام عبادتوں سے افضل عبادت اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کا ذکر ہے ۔ ‘‘
اس کے علاوہ بھی آیات ذکر کی فضیلت کا مفہوم ادا کرتی ہیں ۔
Text fromOpenITICC BY-NC-SA 4.0Shamela 9472taken 2026-10-21
This is the Arabic text of al-Ghazālī’s Iḥyāʾ ʿUlūm al-Dīn as the OpenITI corpus has it, from Shamela’s copy of the Dār al-Maʿrifa edition. Nobody has compared it with the printed book or a manuscript, and no scholar has reviewed it. The corpus says that in some pages a part of the text is missing and that the editor’s footnotes are mixed with the text; both are shown as they stand. The pages of the printed edition are marked where they end. The translations are their translators’, each read from the copy named with it and shown as a text of its own under each book, with its own headings: none is set line for line against the Arabic, Karim’s English abridges the book as its translator says, and each keeps the faults of the copy it was read from. Sabīl has translated nothing, has not checked any translation against the Arabic, and no scholar has reviewed one.