کسب و معاش کے آداب کا بیان
This translation is its translator’s, not Sabīl’s. It is shown as its source gives it, as a text of its own under each book with the translator’s own headings: it does not stand line for line beside the Arabic, and it keeps the faults of the copy it was read from. Sabīl has not checked it against the Arabic, and no scholar has reviewed it.
Translated by Al-Madina-tul-Ilmiyah (Dawateislami's translation department)احیاء العلوم (اردو ترجمہ)، پانچ جلدیںRead from dawateislami.net (Maktabat-ul-Madina)taken 2026-10-22
What the source says of it: The site names the writer as Al Madina-tul-Ilmiyah and the publisher as Maktaba-tul-Madina, with the five volumes published between April 2012 and 2015 and updated in March 2023; it states no licence. The translation sets the Arabic of the verses and narrations in the text, with its own headings and foot-notes giving the sources.
اللہ عَزَّوَجَلَّ کی حمد ہم اس موحدکی طرح کرتے ہیں جو ہر شے سے جدا ہوکر واحد برحق کی یکتائی میں گم ہوگیااور اس کی بزرگی اس بندے کی طرح بیان کرتے ہیں جوبغیر کسی استثناء کے واضح طور پر کہتا ہے کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے سوا ہر شے باطل ہے ۔بے شک زمین وآسمان کی تمام مخلوق مل کر بھی ایک مکھی یا پروانہ بھی پیدا نہیں کر سکتی۔ہم اللہ عَزَّوَجَلَّ کا شکر ادا کرتے ہیں کہ اس نے آسمان کواوپر اٹھا کر اپنے بندوں کے لئے چھت بنایا اور زمین کوبچھاکر ان کے لئے بستر کردیااور اُسی نے رات کو دن پر لپیٹ کر اسے پردہ بنادیا اور دن کو روزگار کا ذریعہ بنایا تاکہ بندے باری تعالیٰ کے فضل یعنی رزق کی تلاش میں پھیل جائیں اور اس کے ذریعے اپنی حاجتوں کو پورا کریں اورہم اللہ عَزَّوَجَلَّ کے رسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر بکثرت درود وسلام بھیجتے ہیں کہ جن کے حوض کوثر پر مومن بندے آئیں گے تو پیاسےمگرجائیں گے سیراب ہو کر اور آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے آل و اصحاب پر بھی درودبھیجتے ہیں کہ جنہوں نے ہر موقع پردین کی مددکی۔
حصولِ رزق میں لوگوں کی اقسام:
بے شک تمام پرورش کرنے والوں کو پالنے والے اور تمام اسباب کو پیدا فرمانے والے اللہ عَزَّوَجَلَّ نے آخرت کو ثواب اورعقاب کا گھر جبکہ دنیا کو مشقت وپریشانی اورعمل ومہلت کا گھر بنایاہے……دنیا میں صرف عمل ہی آخرت کے لئے خاص نہیں بلکہ معاش(یعنی روزی ورزق)بھی آخرت کی طرف ذریعہ اور اس پر مددگار ہے،لہٰذادنیا آخرت کی کھیتی اور اس تک پہنچے کا راستہ ہے۔دنیا میں لوگوں کی تین اقسام ہیں:(۱)…وہ جسےحصولِ روزق نے آخرت سے غافل کر رکھاہے۔ ایسا شخص ہلاک ہونے والوں میں سے ہے۔(۲)…وہ جسے آخرت نے طلب رزق سے غافل کر دیاہے۔ ایسا شخص کامیاب لوگوں میں سے ہے۔(۳)…وہ جو رزق کےحصول میں اپنی آخرت کی خاطرمشغول ہوتاہے۔ ایساشخص اعتدال و میانہ روی اختیار کرنے والوں میں سے ہے اور اعتدال کا مرتبہ وہی شخص پا سکتا ہے جوروزی کی طلب میں درست راہ پر چلے اوردنیا کو وہی شخص آخرت کے لئے وسیلہ اور ذریعہ بنا سکتاہےجو اس کی طلب میں آدابِ شریعت کا خیال رکھے۔
کسب کی اقسام اور تجارت وکاریگری کے آداب
اب ہم تجارت وکاریگری کے آداب، کسب کی اقسام اور اس کے طریقے بیان کریں گے جن کی تفصیل وتشریح درج ذیل پانچ ابواب میں ہوگی:
(۱)…کسب کی فضیلت اور اس کی ترغیب کا بیان(۲)… خرید و فروخت اورمُعامَلات کے صحیح ہونے کا بیان(۳)… معاملات میں عدل کرنے کا بیان(۴)…معاملات میں احسان کرنے کا بیان(۵)…تاجر کا اپنے ساتھ خاص دینی امور میں ڈرنے کا بیان۔
باب نمبر1: کسب کی فضیلت اور اس کی ترغیب کا بیان
قرآنِ مجید اور احادیثِ مبارکہ میں کسب کے بے شمار فضائل بیان کئے گئے ہیں۔چنانچہ،
کسب کی فضیلت پر مشتمل 5فرامین باری تعالیٰ:
(1)… وَّ جَعَلْنَا النَّهَارَ مَعَاشًا۪(۱۱) ( پ ۳۰، النبا :۱۱) ترجمۂ کنز الایمان :اور دن کو روزگار کے لئے بنایا ۔
اللہ عَزَّوَجَلَّ نے اس آیتِ مبارکہ کواپنے عظیم احسانات اوراپنی بڑی نعمتوں کے بیان میں ارشادفرمایاہے۔
(2)… وَ جَعَلْنَا لَكُمْ فِیْهَا مَعَایِشَؕ-قَلِیْلًا مَّا تَشْكُرُوْنَ۠(۱۰) ( پ ۸، الاعراف :۱۰)
ترجمۂ کنز الایمان :اورتمہارے لئے اس میں زندگی کے اسباب بنائے بہت ہی کم شکر کرتے ہو ۔
اللہعَزَّوَجَلَّ نے اس آیتِ طیِّبہ میں رزق کے حصول اور زندگی کے اسباب کو نعمت قرار دیا اور اس پر شکر اداکرنے کا مطالبہ فرمایا۔
(3)… لَیْسَ عَلَیْكُمْ جُنَاحٌ اَنْ تَبْتَغُوْا فَضْلًا مِّنْ رَّبِّكُمْؕ-ؕ( پ ۲، البقرة :۱۹۸)
ترجمۂ کنز الایمان : تم پر کچھ گناہ نہیں کہ اپنے رب کا فضل تلاش کرو ۔
(4)… وَ اٰخَرُوْنَ یَضْرِبُوْنَ فِی الْاَرْضِ یَبْتَغُوْنَ مِنْ فَضْلِ اللّٰهِۙ- ( پ ۲۹، المزمل :۲۰)
ترجمۂ کنز الایمان : اور کچھ زمین میں سفر کریں گے اللہ کا فضل تلاش کرنے ۔
(5)… فَانْتَشِرُوْا فِی الْاَرْضِ وَ ابْتَغُوْا مِنْ فَضْلِ اللّٰهِ ( پ ۲۸، الجمعة :۱۰)
ترجمۂ کنز الایمان :توزمین میں پھیل جاؤ اور اللہ کا فضل تلاش کرو ۔
کسب کی فضیلت پر مشتمل 13فرامین مصطفٰے:
(1)… مِنَ الذُّنُوْبِ ذُنُوْبٌ لَّا یُکَفِّرُھَا اِلَّا الْھَمُّ فِیْ طَلَبِ الْمَعِیْشَۃِ یعنی گناہوں میں سے کچھ گناہ ایسے ہیں جن کو حصولِ رزق میں پہنچنے والارنج وغم ہی مٹا سکتا ہے۔(23 )
(2)… اَلتَّاجِرُ الصَّدُوْقُ یُحْشَرُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ مَعَ الصِّدِّیْقِیْنَ وَالشُّھَدَآء یعنی قیامت کے دن سچے تاجر کا حشر صدیقین اور شہدا کے ساتھ ہو گا۔(24 )
(3)… مَنْ طَلَبَ الدُّنْيَا حَلَالًا وَّتَعَطُّفًا عَنِ الْمَسْئَلَةِ وَسَعْيًا عَلٰي عِيَالِهٖ وَتَعَطُّفًا عَلٰي جَارِهٖ لَقِيَ اللهَ وَوَجْهُهُ كَالْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ یعنی جس نے خود کو سوال سے بچانے ،اپنے بال بچوں کے لئے بھاگ دوڑکرنے اور اپنے پڑوسی پر مہربانی کرنے کے لئے حلال مال طلب کیا وہ اللہ عَزَّوَجَلَّ سے اس حال میں ملے گاکہ اس کا چہرہ چودھویں رات کے چاند کی طرح روشن ہوگا۔(25 )
(4)…ایک دن صبح سویرےحضورسیِّدِعالَم، نُورِمُجَسَّمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کے ساتھ تشریف فرما تھے کہ صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان نے ایک طاقتور اور مضبوظ جسم والےنوجوان کو روزگار کے لئے بھاگ دوڑ کرتے دیکھ کر کہا: کاش!اس کی جوانی اور طاقت اللہ عَزَّوَجَلَّ کی راہ میں صرف ہوتی۔‘‘تورحمتِ عالَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشادفرمایا:’’ایسا مت کہو! کیونکہ اگروہ محنت وکوشش اس لئے کرتا ہے کہ خودکو سوال کرنے سے بچائے اور لوگوں سے بے پرواہوجائے تووہ یقیناً اللہ عَزَّوَجَلَّ کی راہ میں ہے اور اگر وہ اپنے ضعیف والدین اور کمزور اولاد کے لئے محنت کرتا ہے تاکہ انہیں لوگوں سے بے پروا کر دے اورانہیں کافی ہوجائے تو بھی وہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کی راہ میں ہے اور اگر وہ فخر کرنے اور مال کی زیادہ طلبی کے لئے بھاگ دوڑ کرتا ہے تووہ شیطان کی راہ میں ہے۔(26 )
(5)… اِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ الْعَبْدَ یَتَّخِذُ الْمِہْنَۃَ لِیَسْتَغْنِیَ بِہَا عَنِ النَّاسِ وَیُبْغِضُ الْعَبْدَ یَتَعَلَّمُ الْعِلْمَ یَتَّخِذُہٗ مِہْنَۃً یعنی اللہ عَزَّوَجَلَّ اس بندے کو پسند فرماتا ہے جو اس لئے کام کاج کرتا ہے تاکہ وہ اس کے ذریعے لوگوں سے بے نیاز ہوجائے اور اس بندے کو ناپسند فرماتا ہے جو علم سیکھتا ہے تا کہ اسےپیشہ(یعنی مال کمانے کا ذریعہ)بنائے۔(27 )
(6)… اِنَّ اللّٰہَ تَعَالٰی یُحِبُّ الْمُؤْمِنَ الْمُحْتَرِفَ یعنی اللہعَزَّوَجَلَّ پیشہ ور(کام کاج کرنے والے )مومن کو پسند فرماتا ہے۔‘‘(28 )
(7)… اَحَلُّ مَااَكَلَ الرَّجُلُ مِنْ كَسْبِهٖ وَكُلِّ بَيْعٍ مَبْرُوْرٍ یعنی سب سےزیادہ پاکیزہ کھانا وہ ہے جو آدمی اپنے ہاتھ کی کمائی اوردھوکا وخیانت سے محفوظ تجارت سے کھائے۔(29 )
(8)… اَحَلُّ مَااَكَلَ الْعَبْدُ مِنْ یَدِ الصَّانِعِ اِذَا نَصَحَ یعنی سب سے زیادہ حلال کھانا وہ ہے جو بندہ اپنے ہنرکی کمائی سے کھائے جبکہ وہ دیانت داری سے کام کرے۔(30 )
(9)… عَلَیْکُمْ بِالتِّجَارَۃِ فَاِنَّ فِیْہَا تِسْعَۃَ اَعْشَارِ الرِّزْقِ یعنی تم تجارت کیا کروکہ رزق کے 10 حصوں میں سے9 حصے تجارت میں ہیں۔(31 )
مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا عیسیٰ روحُ اللہ عَلٰی نَبِیِّنَا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَ السَّلَام نے ایک شخص کو دیکھ کر استفسار فرمایا:’’تم کیا کرتے ہو؟‘‘اس نے عرض کی:’’میں عبادت کرتا ہوں۔‘‘استفسارفرمایا:’’ تمہاری کفالت کون کرتا ہے؟ ‘‘عرض کی:’’میرا بھائی۔‘‘ ارشاد فرمایا:’’ تمہارا بھائی تم سے بڑا عبادت گزار ہے۔‘‘
(10)…’’میں جس چیز کے بارے میں جانتا ہوں کہ وہ تمہیں جنت کے قریب اور جہنم سے دور کرنے والی ہےتو تمہیں اس کا حکم دیتا ہوں اور جس چیز کے بارے میں جانتا ہوں کہ وہ تمہیں جنت سے دور اور جہنم کے قریب کرنے والی ہے تو تمہیں اس سے منع کرتا ہوں۔ بے شک رُوح الامین حضرت جبرائیل عَلَیْہِ السَّلَام نے میرے دل میں یہ بات ڈالی کہ کوئی جان اس وقت تک نہیں مرے گی جب تک وہ اپنا رزق پورا نہ کر لے اگرچہ وہ اس کو دیر سے ملے ۔پس تم اللہ عَزَّوَجَلَّ سے ڈرو اور رزق کا حصول اچھے طریقے سے کرو۔‘‘آخر میں ارشاد فرمایا:’’رزق میں سے کسی شے کا دیر سے ملنا تمہیں اس بات پر مجبور نہ کرے کہ تم اللہ عَزَّوَجَلَّ کی نافرمانی کر کے رزق تلاش کرنے لگوکیونکہ جو اللہ عَزَّوَجَلَّ کے پاس ہے(یعنی ثواب وغیرہ)اس تک اس کی نافرمانی سے نہیں پہنچا جاسکتا۔(32 )
اس روایت میں حضورنبیّ رحمت، شفیع امت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نےرزق کےحصول میں اچھا طریقہ اختیار کرنے کا فرمایانہ کہ رزق کی طلب کو چھوڑنے کا۔
(11)… اَلْاَسْوَاقُ مَوَائِدُ اللّٰہِ تَعَالٰی فَمَنْ اَتَاہَا اَصَابَ مِنْہَا یعنی بازار اللہ عَزَّوَجَلَّ کے دسترخوان ہیں تو جو ان میں آئے گا ان میں سے حصہ پائے گا۔(33 )
(12)… لاَِنْ یَّاْخُذَاَحَدُکُمْ حَبْلَہُ فَیَحْتَطِبَ عَلٰی ظَہْرِہٖ خَیْرٌ مِّنْ اَنْ یَّاْتِیَ رَجُلًااَعْطَاہُ اللَّہُ مِنْ فَضْلِہٖ فَیَسْئَلَہٗ اَعْطَاہٗ اَوْ مَنَعَہٗ یعنی تم میں سے کوئی شخص رسی لے کر اپنی پیٹھ پر لکڑیاں جمع کر کے لائے یہ اس بات سے بہتر ہے کہ وہ کسی ایسےآدمی کے پاس جا کر دست ِسوال دراز کرے جسے اللہ عَزَّوَجَلَّ نے اپنے فضل سے عطا فرمایا ہے۔ وہ چاہے تواسے عطا کرے ،چاہے تو منع کر دے۔(34 )
(13)… مَنْ فَتَحَ عَلٰی نَفْسِہٖ بابامِّنَ السُّؤَالِ فَتَحَ اللّٰہُ عَلَیْہٖ سَبْعِیْنَ بابا مِّنَ الْفَقْرِ یعنی جو خود پر سوال (یعنی مانگنے)کا ایک دروازہ کھولے گا اللہ عَزَّوَجَلَّ اس پر محتاجی کے 70 دروازے کھول دے گا۔(35 )
کسب کی فضیلت اور اس کی ترغیب کے متعلق سلف صالحین رَحِمَہُمُ اللہُ الْمُبِیْن کے کثیر اقوال وآثار مروی ہیں، چندملاحظہ ہوں۔چنانچہ،
کسب کی فضیلت پر مشتمل 15اقوالِ بزرگانِ دین:
(1)…حضرت سیِّدُنا لقمان حکیم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے اپنے بیٹے سے فرمایا: اے میرے بیٹے! حلال کمائی کے ذریعے محتاجی سے نجات حاصل کر کیونکہ جو بھی محتاج ہوتا ہے اسے تین باتیں پہنچتی ہیں:(۱)…اس کے دین میں نرمی اور(۲)…عقل میں کمزوری آجاتی ہے اور(۳)…مروت ختم ہوجاتی ہے ۔پھر ان تینوں سے بڑھ کر یہ کہ لوگ اسے حقیر جانتے ہیں۔
(2)…خلیفۂ دوم امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نےفرمایا: تم میں سے کوئی بھی رزق کی تلاش چھوڑکریہ نہ کہتا پھرے کہ’’اے اللہ عَزَّوَجَلَّ !مجھے رزق عطا فرما ۔‘‘کیونکہ تم جانتے ہو کہ آسمان سونا، چاندی نہیں برساتا۔
Text fromOpenITICC BY-NC-SA 4.0Shamela 9472taken 2026-10-21
This is the Arabic text of al-Ghazālī’s Iḥyāʾ ʿUlūm al-Dīn as the OpenITI corpus has it, from Shamela’s copy of the Dār al-Maʿrifa edition. Nobody has compared it with the printed book or a manuscript, and no scholar has reviewed it. The corpus says that in some pages a part of the text is missing and that the editor’s footnotes are mixed with the text; both are shown as they stand. The pages of the printed edition are marked where they end. The translations are their translators’, each read from the copy named with it and shown as a text of its own under each book, with its own headings: none is set line for line against the Arabic, Karim’s English abridges the book as its translator says, and each keeps the faults of the copy it was read from. Sabīl has translated nothing, has not checked any translation against the Arabic, and no scholar has reviewed one.